خطبات بہاولپور/Khutbat-e- Bahawalpur


خطبات بہاولپور


خطبات بہاولپور مجموعہ ہے ان خطبات کا جو ڈاکٹر محمد حمیداللہ نے مارچ ۱۹۸۰ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں دیے۔ ڈاکٹر حمید اللہ نہایت مدلل گفتگو کے قائل  نظر آتے ہیں ۔ اپنی تقاریر میں وہ مثال اور منطق کا استعمال نہایت خوبی سے کرتے ہیں۔ سوالات کے جوابات میں تقابلی جائزے سے جواب دیتے ہیں جو مسئلے کو سمجھے میں کافی آسانی پیدا کرتا ہے۔

ان کی تقریر اور بحث میں تقابلہ ادیان، تقابلہ فرقہ و مذہب زیادہ نمایاں نظر آتا ہے۔ایسا نہیں کے مابین مذاہب تقابلی جائزہ کہیں نہیں بلکہ بوقت ضرورت اس کو پیش کیا گیا ہےپر زیادہ موازنہ اسلام کا دوسرے ادیان سے ہے۔ یہ بات اب تک کی تمام تقاریر میں یکسر موجود ہے۔ان خطبات میں کی اساس میں تاریخ، ارتقا، معاشیات، سیاسیات، جغرافیہ، تحقیق، دینیات اور بشریات جیسے موضوعات موجود ہیں جو نہایت ہی علمی طور پر پیش کیے گئے ہیں۔

کتاب کے ابواب۔ کتاب قاری کی آسانی کیلیے مختلف ابواب میں تقسیم ہے پر پڑھتے وقت اس کی اندازہ صرف تب ہوتا ہے جب اگلے باب کا نام سامنے آئے۔ورنہ کتاب بغیر کسی جھجھک کے آگے بڑھتی ہے۔ اس سے ڈاکٹر صاحب کی اپنی علم پر گرفت کام دکھاتی نظر آتی ہے۔کہیں بھی نا تو موضوع چھوٹتا ہے نا بات بڑھ کر کسی اور موضوع سے جا ملتی ہے۔ نہایت چابکدستی سے ڈاکٹر صاحب اپنے علم کو سامعین کے سامنے بغیر کسی جھجک کے پیش کرتے ہیں۔اور اسی فہم و فراست سے وہ سامعین کے ساولوں کےجواب دیتے ہیں۔

۱۔تاریخ  قرآن مجید
                    پہلا باب تاریخ قرآن مجید پر خطاب ہے۔ ابتداً باقی ادیان کی کتب کا جائزہ ہے اور ان ادیان اورکتب کا اسلامی نقطہ نظر سے موازنہ و جائزہ ہے۔اس کے بعد تفصیلاً اسلام کی کتاب، قرآن کا جائزہ ہے۔قرآن کی تاریخ اور قرآن کا جمع ہونا اور اصحاب کا کردار و ردعمل تفصیلاً بیان کیا گیا ہے۔ 

۲۔ تاریخ حدیث شریف
                        اس باب میں حدیث کا بیان ہے، اس میں حدیث کا مقام بیان کیا گیا ہے اس کے ساتھ حدیث کا مقام بھی تفصیلاً بیان ہے۔ اس کے بعد حدیث کی صحت پر خطاب ہے  اور حدیث کو مدون ہوتے پر سیرحاصل بیان ہے۔ احادیث کے سیاق و سباق پر بھی کافی تفصیلاً بیان کیا ہے۔

۳۔ تاریخ فقہ
             عموماً فقہ کو ہم فقاہا کے حوالے کرکے خود کو اس سے مبرہ سمجھتے ہیں پر اس خطاب کا اور ڈاکٹر حمیداللہ کا انداز بیاں ایسا ہے کہ پڑھنے والا اس کو بھی دلچسپی سے پڑھتا ہے۔ اس باب میں سب سے دلچسپ چیز قانون اور فقہ کا فرق ہے۔ اس کے بعد مختلف فقہ کا فرق بتایا گیا ہے۔

اسی طرح کتاب کے ۱۲ باب ہیں جن میں اسلام کے ارکان، اسلامی قانون (خاص کر قانون بین الممالک)، اسلامی نظریہ دفاع و جنگ، اسلامی نظام عدلیہ، اسلامی معاشییات اور اسلامی تبلیغ اور مسلمانوں سے برتاو پر نہایت سبق آموز اور دلچسپ گفتگو کی کئی ہے۔ کئی مقامات پر تو شاید ہم جیسے نام کے مسلمان بھی ششوپنج میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ ایسے مقامات پر شاید یہ کتاب مسلم و غیر مسلم  کیلیے ایک سی دلچسپ ثابت ہو گی۔

خطبات بہاولپور نہایت آسان الفاظ میں اسلام کا تعارف کرواتی ہے۔  اور رٹی رٹائی باتوں سے ہٹ کر ایک تحقیقی تعارف ہے۔ اسی بنا پر اس کتاب کو تجویز کرنا بھی آسان ہے۔ وہ واقعات جو ہم مسلمان ہوتے ہوئے یا پاکستان میں رہتے ہوئے سنتے ہیں ان کا پس منظر خوب بیان کرتی ہے اور منتقی گفتگو سے واقعے کی اساس تک پہنچتی ہے۔ کتاب میں کئی مقامات پر ایسے واقعات قلم بند ہیں کہ پڑھنے والا شش و پنج میں مبتلا ہو جاتا ہے اور واقعاً سوچنے پر مجبور ہوتا ہے۔
ختم اپنے استاد محترم کے الفاظ سے کروں گا کہ اسلام بہت مفصل ہے اس میں دائیں بازو یا بائیں بازو کو مت شامل کیجئے۔ کچھ ایسا ہی ان خطباط سے بھی معلوم ہوتا ہے۔



Comments

Popular posts from this blog

Khutbat-e-Bahawalpur

The New Silk Roads - Peter Frankopan