Qudrat Ullah Shahab
بسم
اللہ الرحمن الرحیم۰
میں
اس بات کو تسلیم کرنے میں کوئی دقت محسوس نہیں کرتا کہ کتاب بینی میں میرا مطالع
چند سو صفحات سے زیادہ نہیں۔ اور ادب میں تو اور بھی خطیر ہے۔ حال ہی میں قدرت
اللہ شہاب کی خودنویس ان کی سوانح عمری ۔شہاب نامہ۔ مکمل کی ہے۔ میرے ساتھ کچھ
ایسا المیہ رہا ہے کہ چھوٹا کتابچہ بھی مکمل کرنے میں خاصی دقت کا سامنہ کرنا پڑتا
ہے۔ لیکن اس ذخیم کتاب کو مکمل کرنے میں مجھے ڈیڑھ ہفتہ لگا۔ خدا معلوم یہ قدرت
اللہ شہاب کا انداز بیاں ہے یا کچھ اور جو قاری میں سرایت کر کہ اس کو جکڑ لیتا ہے
اور آگے بڑھتے ہوے جی چاہتا ہے کتاب ختم نا ہو۔
قدرت
اللہ شہاب کے انداز بیاں سے بہت سی حقیقتیں قاری پر منقشف ہوتی ہیں۔ وہ زمان و
مکاں سے الگ جمود میں نہیں لکھتے بلکہ اپنی زندگی کے واقعات سے کئی مسائل نہایت ہی
سادگی سے سمجھانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ فرض کیجیے کا لفظ کم اور ایک دفعی سے
زیادہ اور موضوع کام لیتے ہیں۔
شہاب
نامہ مکمل کرنے کے بعد اس بات کا بھیت کسی حد تک کھلا ہے کہ ادیب کسی بھی معاشرے
میں اپنے الگ ہی انداز میں معاشرے سے ہم کلام ہوتے ہیں۔ وہ الفاظ کے ذریعے معاشرے
کی اصلاح میں حصہ لیتے ہیں اور اس کے اثرات گہرے اور دیرپا ہیں۔ قدرت اللہ شہاب
الفاظ کے ذریعے قاری سے خوب رابطہ استوار کرتے ہیں۔ ان کی تصنیف میں جوں جوں آگے
بڑھنے کا دل چاہا ہے وہاں وہاں قصہ ختم نہ ہونے کی فریاد بھی اندر ہی اندر بڑھتی
ہے۔
ان
کی کتاب میں ’ماں جی’ اور ‘عفت’ جیسے chapters اس کی مثال ہیں کہ وہ پڑھیے والے کے کس قدر
انحماق سے مخاظب ہیں۔
اپنے
جذبات کو پوری طرح قاری کے دل میں اتارنا اور اس کے جذبات کے جمود کو توڑ کر
جھنجھنلا کر رکھ دینا ان کا مشغلہ معلوم ہوتا ہے۔ اسی اثر میں تصنیف کو پڑھتے ہوے
کئی مقامت پہ بےاختیار ہنسی آجاتی ہے اور کئی جگہ رونے کو جی چاہا ہے۔
اللہ
تعالی ان کے دراجات بلند فرماے۰ (آمین)

Comments
Post a Comment